سنن أبي داود حدیث نمبر: 3538
Sunan Abi Dawud 3538
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
47: باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ
باب: ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ" قَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے“۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے (یہ بھی) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں (تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3538]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2621) صحيح مسلم (1622)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الھبة 14 (2588)، صحیح مسلم/الھبة 2 (1622)، سنن النسائی/الھبة 2 (3672)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 5 (2385)، (تحفة الأشراف: 5662)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 62، (1299)، مسند احمد (1/250، 280، 289، 291، 339، 342، 345، 349) (صحیح)