سنن أبي داود حدیث نمبر: 3535
Sunan Abi Dawud 3535
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
45: باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ
باب: کیا کسی آدمی کا ماتحت اس کے مال سے اپنا حق لے سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت (جب وہ مانگے) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت (دھوکے بازی) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3535]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر اس حدیث اور ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مابین اختلاف ہے، لیکن درحقیقت ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ خائن وہ ہے جو ناحق کسی دوسرے کا مال ظلم و زیادتی کے ساتھ لے، رہا وہ شخص جسے اپنا حق لینے کی شرعاً اجازت ہو وہ خائن نہیں ہے، جیسا کہ ہند رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شوہر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مال سے عام دستور کے مطابق لینے کی اجازت دی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1264) ¤ شريك القاضي عنعن وقيس بن الربيع ضعيف وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 81/4) وقال المناوي: ضعفه الجمھور(فيض القدير119/3ح2835) ¤ وللحديث شواھد كثيرة كلھا ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 38 (1264)، (تحفة الأشراف: 12836، 18623)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 57 (2639) (حسن صحیح)