سنن أبي داود حدیث نمبر: 3523
Sunan Abi Dawud 3523
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
40: باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ
باب: آدمی مفلس (دیوالیہ) کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَال: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: " لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3523]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2360 وسنده حسن) أبو المعتمر بن عمرو بن رافع وثقه غير واحد بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأحکام 26 (2360)، انظر حدیث رقم: (3519)، (تحفة الأشراف: 14269) (ضعیف) (اس کے راوی ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں)