سنن أبي داود حدیث نمبر: 3500
Sunan Abi Dawud 3500
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
32: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ
باب: خریدار اگر یہ کہہ دے کہ بیع میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی تو اس کو بیع کے فسخ کا اختیار ہو گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جب تم خرید و فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو «لا خلابة» (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہو گا)“ تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو «لا خلابة» کہہ دیتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3500]
💡 وضاحت:
۱؎: خریدار کے ایسا کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہو جاتا ہے اور اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ بیع فسخ کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2117) صحيح مسلم (1533) ¤
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 48 (2117)، الاستقراض 19 (2407)، الخصومات 3 (2414)، الحیل 7 (6964)، سنن النسائی/البیوع 10 (4489)، (تحفة الأشراف: 7229)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 12 (1533)، موطا امام مالک/البیوع 46 (98)، مسند احمد (2/80، 116، 129،130) (صحیح)