📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: اجارے کے احکام و مسائل (كِتَابُ الْإِجَارَةِ) 🏷️ باب: باب: کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 3467 Sunan Abi Dawud 3467
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
22: باب فِي السَّلَمِ فِي ثَمَرَةٍ بِعَيْنِهَا
باب: کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ، فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ؟ ثُمَّ قَالَ: لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3467]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2284) ¤ رجل نجراني: مجهول (عون المعبود 293/3) ¤ وأبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 61 (2284)، (تحفة الأشراف: 8595)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 21 (49)، مسند احمد (2/25، 49، 51، 58، 144) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجل نجرانی مبہم ہیں)
سنن أبي داود • حدیث #3467
3465 3466 3467 3468 3469
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ