سنن أبي داود حدیث نمبر: 3458
Sunan Abi Dawud 3458
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
17: باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ: أَخْبَرَنَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: كَانَ أَبُو زُرْعَةَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا خَيَّرَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: خَيِّرْنِي، وَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ".
یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خرید و فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3458]
💡 وضاحت:
۱؎: چاہے وہ کلاس کے دو ساتھی ہوں یا ٹرین و بس کے دو ہم سفر، یا بائع و مشتری ہوں یا کوئی اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ اس طرح ہونا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2805) ¤ أخرجه الترمذي (1248 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 27 (1248)، (تحفة الأشراف: 14924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/536) (حسن صحیح)