سنن أبي داود حدیث نمبر: 3441
Sunan Abi Dawud 3441
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
11: باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
باب: شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ".
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3441]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5019) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی اعرابی مبہم ہے)