سنن أبي داود حدیث نمبر: 3438
Sunan Abi Dawud 3438
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
10: باب فِي النَّهْىِ عَنِ النَّجْشِ
باب: نجش یعنی دوسرے خریداروں کو دھوکہ دینے کے لیے دام بڑھانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَاجَشُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجش نہ کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3438]
💡 وضاحت:
۱؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2140) صحيح مسلم (1413) ¤
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، والبیوع 4 (1520)، سنن الترمذی/البیوع 65 (1304)، سنن النسائی/البیوع 12 (4492)، سنن ابن ماجہ/التجارات (2174)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (4/338، 354، 394، 402، 410) (صحیح)