سنن أبي داود حدیث نمبر: 3427
Sunan Abi Dawud 3427
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
4: باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ
باب: لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3427]
💡 وضاحت:
۱؎: جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہو جائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3426) ¤
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3587)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/141) (حسن) بما قبلہ