سنن أبي داود حدیث نمبر: 3402
Sunan Abi Dawud 3402
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
32: باب فِي التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
باب: بٹائی کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، " فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ، لِمَنِ الزَّرْعُ، وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟، فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي، وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ، وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟“ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3402]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ بكير ضعيف ¤ والحديث صححه الحاكم (41/2) فقال الذھبي: ”بكير ضعيف‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3568) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکیر بن عامر ضعیف ہیں)