سنن أبي داود حدیث نمبر: 3384
Sunan Abi Dawud 3384
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
28: باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ
باب: مضارب (وکیل) ایسا تصرف کرے جس سے مالک کو فائدہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ، قَالَ: " أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً أَوْ شَاةً، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ".
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3384]
💡 وضاحت:
۱؎: مضاربت ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں ایک آدمی کا پیسہ ہو اور دوسرے کی محنت، پیسے والے کو مضارَب اور محنت والے کو مضارِب کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3642)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 28 (3642)، سنن الترمذی/البیوع 34 (1258)، سنن ابن ماجہ/الاحکام 7 (2402)، (تحفة الأشراف: 9898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375، 376) (صحیح)