سنن أبي داود حدیث نمبر: 337
Sunan Abi Dawud 337
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
128: باب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ
باب: زخمی تیمم کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ".
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 337]
💡 وضاحت:
بغیر علم کے فتویٰ نہیں دینا چاہیے۔ چاہیے کہ اصحاب علم سے مراجعہ کیا جائے۔ زخم پر پٹی باندھ کر مسح کیا جائے اور اس مسح کے لیے موزوں والی کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے وضو کیا ہو یا وقت متعین ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (532) ¤ الأوزاعي سمعه من عطاء وسمعه من رجل عنه وللحديث طرق أخريٰ عند البيھقي (1/226، 227، فيه بشر بن بكر وھو ثقه)
تخریج دارالدعوہ:
أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (572)، (تحفة الأشراف: 5972)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 69 (779) (حسن)