سنن أبي داود حدیث نمبر: 3348
Sunan Abi Dawud 3348
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
12: باب فِي الصَّرْفِ
باب: بیع صرف کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو“ (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں) ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3348]
💡 وضاحت:
۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے،اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2174) صحيح مسلم (1586)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260، 2259)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)