📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كِتَاب الْبُيُوعِ) 🏷️ باب: باب: قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 3345 Sunan Abi Dawud 3345
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
10: باب فِي الْمَطْلِ
باب: قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3345]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کر دینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کر لے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2287) صحيح مسلم (1564)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحوالة 1 (2288)، 2 (2289)، والاستقراض 12(2400)، صحیح مسلم/المساقاة 7 (1564)، سنن النسائی/البیوع 99 (4695)، (تحفة الأشراف: 13693، 13803)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 68 (1308)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 8 (2403)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/245، 254، 260، 315، 377، 380، 463، 464، 465)، سنن الدارمی/البیوع 48 (2628) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #3345
3343 3344 3345 3346 3347
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ