سنن أبي داود حدیث نمبر: 3309
Sunan Abi Dawud 3309
کتاب #22: کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
25: باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی“ اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو (عمرو بن عون) کی حدیث (نمبر ۳۳۰۸) کی طرح ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3309]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1149)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 27 (1149)، سنن الترمذی/الزکاة 31 (667)، سنن ابن ماجہ/الصیام 51 (1759)، (تحفة الأشراف: 1980) (صحیح)