سنن أبي داود حدیث نمبر: 3279
Sunan Abi Dawud 3279
کتاب #22: کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
18: باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ
باب: قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَخٍ لِصَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: فَوَهَبَتْ لَنَا أُمُّ حَبِيبٍ صَاعًا، حَدَّثَتْنَا عَنِ ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ، عَنْ صَفِيَّةَ: أَنَّهُ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَرَّبْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَحَزَرْتُهُ فَوَجَدْتُهُ مُدَّيْنِ وَنِصْفًا بِمُدِّ هِشَامٍ.
عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3279]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے تو ایک صاع پانچ رطل کا ہوا یہ صاع حجازی کہلاتا ہے اور صاع عراقی (۸) رطل کا ہوتا ہے یعنی (۴) مد کا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أم حبيب مستورة (أي مجهولة الحال) وابن أخي صفية: ”لا يعرف‘‘ (تق: 8713،8497) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15903) (ضعیف الإسناد)