سنن أبي داود حدیث نمبر: 3269
Sunan Abi Dawud 3269
کتاب #22: کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
13: باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا
باب: کیا لفظ قسم بھی «يمين» (حلف) میں داخل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَسَمَ زَادَ فِيهِ، وَلَمْ يُخْبِرْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تعبیر کی غلطی) نہیں بتائی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3269]
💡 وضاحت:
۱؎: ممکن ہے تعبیر کی غلطی نہ بتانے میں کوئی مصلحت رہی ہو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2269)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5838) (ضعیف) (یہ سند سلیمان بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، وہ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں لیکن پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)