سنن أبي داود حدیث نمبر: 3215
Sunan Abi Dawud 3215
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
71: باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ
باب: قبر گہری کھودنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: " أَصَابَنَا قَرْحٌ، وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، قِيلَ: فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ؟، قَالَ: أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ: وَاحِدٌ".
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو“، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1703) ¤ أخرجه الترمذي (1713 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1560 وسنده صحيح) حميد بن ھلال صرح بالسماع عند أحمد (1/20)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن النسائی/الجنائز 86 (2012)، 87 (2013)،90 (2017)، 91 (2020)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560)، (تحفة الأشراف: 11731، 18676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/19،20) (صحیح)