سنن أبي داود حدیث نمبر: 3198
Sunan Abi Dawud 3198
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
59: باب مَا يُقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: جنازے میں قرآت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: إِنَّهَا مِنَ السُّنَّةِ".
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور کہا: یہ سنت میں سے ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3198]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی محققین علماء کا مذہب ہے، یعنی چار تکبیریں کہے اور تکبیر اولی کے بعد سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1335) ¤ مشكوة المصابيح (1673)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335)، سنن الترمذی/الجنائز 39 (1027)، سنن النسائی/الجنائز 77 (1989)، (تحفة الأشراف: 5764)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 22 (1495) (صحیح)