سنن أبي داود حدیث نمبر: 3195
Sunan Abi Dawud 3195
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
57: باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْهِ
باب: جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3195]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1331) صحيح مسلم (964)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 29 (332)، والجنائز 62 (1331)، 63 (1332)، صحیح مسلم/الجنائز 27 (964)، سنن الترمذی/الجنائز 45 (1035)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضة 25 (393)، الجنائز 73 (1978)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 21 (1493)، (تحفة الأشراف: 4625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 19) (صحیح)