سنن أبي داود حدیث نمبر: 318
Sunan Abi Dawud 318
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
124: باب التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، " أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے فجر کی نماز کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیر لیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیر لیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 318]
💡 وضاحت:
۱؎: تیمم کا طریقہ آگے حدیث نمبر (۳۲۰) میں آ رہا ہے، جس میں ہاتھ کو صرف ایک بار مٹی پر مار کر منہ اور ہتھیلی پر مسح کرنے کا بیان ہے اس حدیث کے سلسلہ میں علامہ محمد اسحاق دہلوی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے اپنی سمجھ اور قیاس سے ایسا کیا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کا طریقہ بتایا تو وہ اس کو سیکھ گئے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھے تک تیمم کیا، اور آپ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لئے چہرہ اور دونوں ہتھیلی تک مسح کا حکم دیا، تو گویا زیر نظر واقعہ میں مذکور تیمم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نہیں تھا (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱؍۳۵۰ و ۳۵۱)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (536) ¤ انظر الحديث الآتي (320)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطھارة 90 (565)، 92 (571)، (تحفة الأشراف: 10363)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 110 (144)، سنن النسائی/الطھارة 196 (313)، 199 (317)، 200 (318)، 201 (319)، 202 (320)، مسند احمد (4/263، 264) (صحیح)