سنن أبي داود حدیث نمبر: 3168
Sunan Abi Dawud 3168
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
45: باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا
باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ، قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ، أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3168]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ أخرجه الحميدي بتحقيقي (1027 وسنده صحيح) ورواه مسلم (945)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12559)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، سنن النسائی/الجنائز 79 (1996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 34 (1539)، مسند احمد (2/2، 233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 480، 493، 498، 503، 521) (صحیح)