سنن أبي داود حدیث نمبر: 3160
Sunan Abi Dawud 3160
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
39: باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو نہلانے والے کے لیے غسل کرنے کا مسئلہ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3160]
💡 وضاحت:
۱؎: ان میں جنابت کے علاوہ کوئی اور غسل فرض نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (542) ¤ صححه ابن خزيمة (256 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (348)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (348)، (تحفة الأشراف: 16193) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب ضعیف ہیں)