سنن أبي داود حدیث نمبر: 3119
Sunan Abi Dawud 3119
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
22: باب فِي الاِسْتِرْجَاعِ
باب: کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَآجِرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْ لِي خَيْرًا مِنْهَا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے (تھوڑی ہو یا زیادہ) تو اسے چاہیئے کہ: «إنا لله وإنا إليه راجعون» ، «اللهم عندك أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها» بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3119]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وللحديث شواھد عند مسلم (918) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18202)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/317) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی 2382)