سنن أبي داود حدیث نمبر: 3114
Sunan Abi Dawud 3114
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
18: باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْهِيرِ ثِيَابِ الْمَيِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ
باب: مستحب ہے کہ قریب الموت آدمی کے کپڑے پاک صاف کر دیے جائیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ، فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں (قیامت میں) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3114]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مرتے وقت اس کے بدن پر جو کپڑے ہوتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا کہ «ثیاب» سے اعمال مراد ہیں نہ کہ کپڑے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1640)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4428) (صحیح)