سنن أبي داود حدیث نمبر: 3108
Sunan Abi Dawud 3108
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
13: باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ
باب: موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْعُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مر جانا ہی میرے حق میں بہتر ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3108]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح بخاري (6351) صحيح مسلم (2680) ¤ أخرجه ابن ماجه (4265 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الجنائز 2 (1822)، سنن ابن ماجہ/الزھد 31 (4265)، (تحفة الأشراف: 1037)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المرضی 19 (5672)، والدعوات 30 (6351)، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680)، سنن الترمذی/الجنائز 3 (971)، مسند احمد (3/101، 104، 163، 171، 195، 208، 247، 281) (صحیح)