سنن أبي داود حدیث نمبر: 3095
Sunan Abi Dawud 3095
کتاب #21: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
5: باب فِي عِيَادَةِ الذِّمِّيِّ
باب: ذمی کی بیمار پرسی کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: " أَسْلِمْ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: ”تم مسلمان ہو جاؤ“، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ”ابوالقاسم ۱؎ کی اطاعت کرو“، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۲؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3095]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوالقاسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا جب باشعور ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا جب باشعور ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5657)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 79 (1356)، والمرضی 11 (5657)، (تحفة الأشراف: 295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/175، 270، 280) (صحیح)