سنن أبي داود حدیث نمبر: 3057
Sunan Abi Dawud 3057
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
35: باب فِي الإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ
باب: امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَقَالَ" أَسْلَمْتَ، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ".
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3057]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی، مقوقس، اکیدر دومہ اور رئیس فدک کے ہدایا قبول کئے تو یہ «إني نهيت عن زبد المشركين» کے خلاف نہیں ہے کیونکہ مذکورہ سب کے سب ہدایا اہل کتاب کے تھے نہ کہ مشرکین کے، گویا اہل کتاب کے ہدایا لینے درست ہیں نہ کہ مشرکین کے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وللحديث شاھد عند أحمد (3/402 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/السیر 24 (1577)، (تحفة الأشراف: 11015)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (حسن صحیح)