سنن أبي داود حدیث نمبر: 3037
Sunan Abi Dawud 3037
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
30: باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ
باب: جزیہ لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3037]
💡 وضاحت:
۱؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ محمد بن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 937، 19002) (حسن)