سنن أبي داود حدیث نمبر: 3018
Sunan Abi Dawud 3018
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
24: باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً بَعْدَ الْقِتَالِ، وَنَزَلَ مَنْ نَزَلَ مِنْ أَهْلِهَا عَلَى الْجَلَاءِ بَعْدَ الْقِتَالِ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3018]
💡 وضاحت:
۱؎: پھر انہوں نے منت سماجت کی اور کہنے لگے کہ ہمیں یہاں رہنے دو، ہم زراعت (کھیتی باڑی) کریں گے، اور نصف پیداوار آپ کو دیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رکھ لیا، اس شرط کے ساتھ کہ جب ہم چاہیں گے، نکال دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق أنس الشطر الأول والشطر الآخر تقدم في حديث ابن عمر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ السند مرسل،سعيد بن المسيب وابن شهاب الزهري من التابعين ¤ والحديث السابق (الأصل: 3005) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19402) (ضعیف) (اس سند میں انقطاع ہے، زہری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطے کا پتہ نہیں ہے مگر بات یہی صحیح ہے کہ خبیر بزور طاقت (جنگ سے) فتح کیا گیا تھا جیساکہ صحیح اور متصل مرفوع روایات میں وارد ہے)