سنن أبي داود حدیث نمبر: 2998
Sunan Abi Dawud 2998
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
21: باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ
باب: خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ. ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جُمِعَ السَّبْيُ يَعْنِي بِخَيْبَرَ فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، قَالَ: " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ، قَالَ يَعْقُوبُ: صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: ادْعُوهُ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا"، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ایک لونڈی لے لو“، دحیہ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے (صفیہ بنت حیی کو) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر (کے یہودیوں) کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دحیہ کو صفیہ سمیت بلا لاؤ“، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم کوئی اور لونڈی لے لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور ان سے نکاح کر لیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2998]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2893) صحيح مسلم (1365 بعد ح1427)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الصلاة 12 (371)، صحیح مسلم/ النکاح 14 (1365)، سنن النسائی/ النکاح 64 (3342)، (تحفة الأشراف: 990، 1059)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/101، 186) (صحیح)