سنن أبي داود حدیث نمبر: 2974
Sunan Abi Dawud 2974
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
19: باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُؤْنَةُ عَامِلِي يَعْنِي أَكَرَةَ الْأَرْضِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ورثاء میری میراث سے جو میں چھوڑ کر مروں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے، اپنی بیویوں کے نفقے اور اپنے عامل کے خرچے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں وہ صدقہ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مؤنة عاملي» میں «عاملي» سے مراد کاشتکار، زمین جوتنے، بونے والے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2974]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3096) صحيح مسلم (1760)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا 32 (3096)، فرض الخمس 3 (2776)، الفرائض 3 (6729)، صحیح مسلم/الجھاد 16 (1760)، (تحفة الأشراف: 13805)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الکلام 12 (28)، مسند احمد (2/376) (صحیح)