سنن أبي داود حدیث نمبر: 2929
Sunan Abi Dawud 2929
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الإِمَارَةِ
باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ فِيهَا إِلَى نَفْسِكَ وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2929]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی معاملات کو سلجھانے و نمٹانے میں تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
۲ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
۲ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (7147) صحيح مسلم (1652)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأیمان والنذور 1 (6622)، وکفارات الأیمان 10 (6722)، والأحکام 5 (7146)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/النذور 5 (1529)، سنن النسائی/آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 9 (2391)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (3277، 3278) (صحیح)