سنن أبي داود حدیث نمبر: 29
Sunan Abi Dawud 29
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
16: باب النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ، فِي الْجُحْرِ
باب: سوراخ میں پیشاب کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْجُحْرِ"، قَالَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا: کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت (گھر) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 29]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف،نسائي (34) ¤ قتادة مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 3/92) وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الطھارة 30 (34)، (تحفة الأشراف: 5322)، مسند احمد (5/82) (ضعیف) (قتادة مدلس ہیں، اور انہوں نے ابن سرجس سے سنا نہیں ہے) (ضعيف أبي داود: 8، والإرواء: 55، وتراجع الألباني: 131)