سنن أبي داود حدیث نمبر: 2873
Sunan Abi Dawud 2873
کتاب #18: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
9: باب مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ
باب: یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2873]
💡 وضاحت:
۱؎: زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ خالد بن سعيد لم يوثقه غير ابن حبان وباقي السند حسن ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ وروي الطبراني في الكبير (3502) عن حنظلة بن حذيم قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((لا يتم بعد احتلام ولا يتم علي جارية إذا ھي حاضت)) وسنده حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10160) (صحیح)