سنن أبي داود حدیث نمبر: 2869
Sunan Abi Dawud 2869
کتاب #18: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
5: باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» ”اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۰)، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2869]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6260)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الوصایا 28 (3306) (حسن صحیح)