سنن أبي داود حدیث نمبر: 2852
Sunan Abi Dawud 2852
کتاب #17: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
2: باب فِي الصَّيْدِ
باب: شکار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ وَكُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدَاكَ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: ”جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے ۱؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2852]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس سے ماقبل کی حدیث کے مابین تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو بیان جواز پر، اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث حرمت کے سلسلہ میں اصل ہے، اور ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں «وإن أكل» کے معنی ہیں اگرچہ وہ اس سے پہلے کھاتا رہا ہو مگر اس شکار میں اس نے نہ کھایا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ داود بن عمرو حسن الحديث، وللحديث شاھد حسن يأتي (2858) وانظر الحديث الآتي (2855)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما یأتي برقم: (2855)، (تحفة الأشراف: 11878) (منکر) (اس میں وإن أَکَلَ مِنْہ کا جملہ منکر ہے اور کسی راوی کے یہاں نہیں ہے، مسند احمد میں اس کی جگہ وإنّ قَتَلَ (اگرچہ قتل کر ڈالا ہو) کا جملہ ہے، اور یہ حدیث عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق ہے