سنن أبي داود حدیث نمبر: 2846
Sunan Abi Dawud 2846
کتاب #17: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
1: باب فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2846]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1572) ¤ مشكوة المصابيح (4102)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 10 (1572)، (تحفة الأشراف: 2813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/333) (صحیح)