سنن أبي داود حدیث نمبر: 2799
Sunan Abi Dawud 2799
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
5: باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا
باب: کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ.
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: ”جذع (ایک سالہ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» (وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں) کفایت کرتا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2799]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1467) ¤ وله شاھد صحيح عند الحاكم (4/226 ح 7538)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الضحایا 12(4389)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3140)، (تحفة الأشراف: 11211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/368) (صحیح)