سنن أبي داود حدیث نمبر: 2778
Sunan Abi Dawud 2778
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
175: باب فِي الطُّرُوقِ
باب: رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الزُّهْرِيُّ: الطُّرُوقُ بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ لَا بَأْسَ بِهِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری نے کہا: ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2778]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5247) صحيح مسلم (715 بعد ح1928)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 122 (5247)، صحیح مسلم/الإمارة 56 (715)، (تحفة الأشراف: 19418، 2324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/298، 355، 396) (صحیح)