سنن أبي داود حدیث نمبر: 2763
Sunan Abi Dawud 2763
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
167: باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ
باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهَا أَجَارَتْ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2763]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله وأمنا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ تقدم بعضه (1290) وأخرجه النسائي في الكبريٰ (8685)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18005)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 4 (357)، والجزیة 9 (3171)، والأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (336)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/343، 423)، دي الصلاة 151 (1494) (صحیح)