سنن أبي داود حدیث نمبر: 2708
Sunan Abi Dawud 2708
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
141: باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِعُ مِنَ الْغَنِيمَةِ بِالشَّىْءِ
باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ".
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2708]
💡 وضاحت:
۱؎: حاصل یہ ہے کہ غنیمت کے مال میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کا استعمال بلا ضرورت درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ تقدم طرفه (2158، 2159) محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند أحمد وأبي داود وغيرھما
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2158)، (تحفة الأشراف: 3615) (حسن صحیح)