سنن أبي داود حدیث نمبر: 2698
Sunan Abi Dawud 2698
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَقْسِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ غَيْرُهُ: رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2698]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
شاذ ¤ أخطأ ابن أبي زائدة وھو ثقة و روي من طرق صحيحة أن العبد ردّ بعد زمن النبي ﷺ وھو الصواب،انظر الحديث الآتي (الأصل: 2699) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8135)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 187 (3067)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 32 (2846) (صحیح)