سنن أبي داود حدیث نمبر: 2669
Sunan Abi Dawud 2669
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ؟ فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا.
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں“، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے“ ۱؎، مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2669]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ عورت اگر لڑائی میں حصہ لیتی ہے اور لڑتی ہے تو اسے قتل کیا جائے گا بصورت دیگر اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
۲؎: یہاں مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جو لڑتا نہ ہو صرف خدمت کے لئے ہو۔
۲؎: یہاں مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جو لڑتا نہ ہو صرف خدمت کے لئے ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3955)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجھاد 30 (2842)، (تحفة الأشراف: 3449، 3700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/488، 4/178، 346) (حسن صحیح)