سنن أبي داود حدیث نمبر: 2653
Sunan Abi Dawud 2653
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
110: باب فِي الْجَاسُوسِ الْمُسْتَأْمَنِ
باب: جو کافر امن لے کر مسلمانوں میں جاسوسی کے لیے آیا ہو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ"، قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو“، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور نفل (انعام) مجھے دیدیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2653]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3051)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 173 (3051)، (تحفة الأشراف: 4514)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد 13 (1754) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الجھاد 29 (2836)، مسند احمد (4/50)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (صحیح)