سنن أبي داود حدیث نمبر: 2647
Sunan Abi Dawud 2647
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
106: باب فِي التَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ
باب: میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، قَالَ: فَلَمَّا بَرَزْنَا قُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ، فَقُلْنَا: نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ فَنَتَثَبَّتُ فِيهَا وَنَذْهَبُ وَلَا يَرَانَا أَحَدٌ، قَالَ: فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَنَا تَوْبَةٌ أَقَمْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ذَهَبْنَا، قَالَ: فَجَلَسْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: " لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ، قَالَ: فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَدَهُ، فَقَالَ: إِنَّا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا میں سے کسی سریہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے، پھر ہم نے کہا: چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں، (پھر جب دوسری بار جہاد ہو) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے، خیر ہم مدینہ گئے، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا: کاش! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم لوگ «عکارون» ہو (یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو)“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (خوش ہو کر) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں“، (یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے؟)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2647]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1716) والحديث الآتي (3225) ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجھاد 36 (1716)، سنن ابن ماجہ/ الأدب 16 (3704)، (تحفة الأشراف: 7298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/23، 58، 70، 86، 99، 100، 110) ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5223) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں)