سنن أبي داود حدیث نمبر: 2640
Sunan Abi Dawud 2640
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
104: باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ
باب: کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2640]
قال الشيخ الألباني:
صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (21)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الإیمان 1(2606)، سنن النسائی/المحاربة 1 (3981)، سنن ابن ماجہ/الفتن (3927)، (تحفة الأشراف: 12506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 102 (2946)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (2610)، مسند احمد (2/ 314، 377، 423، 439، 475، 482، 502) (صحیح متواتر)