سنن أبي داود حدیث نمبر: 2610
Sunan Abi Dawud 2610
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
88: باب فِي الْمُصْحَفِ يُسَافَرُ بِهِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: قرآن کریم کے ساتھ دشمن کی سر زمین میں جانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ"، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2610]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اس کی بے حرمتی کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2990) صحيح مسلم (1869)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 129 (2990)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 45 (2879)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح) (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصلِ حدیث میں سے ہے نہ کہ قولِ مالک سے)