📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: جہاد کے مسائل (كِتَاب الْجِهَادِ) 🏷️ باب: باب: تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 2607 Sunan Abi Dawud 2607
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
86: باب فِي الرَّجُلِ يُسَافِرُ وَحْدَهُ
باب: تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2607]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک سوار کو شیطان کہا گیا کیونکہ اکیلا مسافر جماعت نہیں قائم کر سکتا، اور بوقت مصیبت اس کا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوتا، اور دو سوار شیطان اس لئے ہیں کہ جب ان میں سے ایک کسی مصیبت و آفت سے دوچار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی خاطر اس طرح مضطرب و پریشان ہو جاتا ہے کہ اس کی پریشانی کو دیکھ کر شیطان بے حد خوش ہوتا ہے، اور اگر مسافر تعداد میں تین ہیں تو مذکورہ پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3910) ¤ أخرجه الترمذي (1674 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجھاد 4 (1674)، (تحفة الأشراف: 8740)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 14 (35)، مسند احمد (2/186، 214) (حسن)
سنن أبي داود • حدیث #2607
2605 2606 2607 2608 2609
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ