سنن أبي داود حدیث نمبر: 2575
Sunan Abi Dawud 2575
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
67: باب فِي السَّبْقِ
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ ضُمِّرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2575]
💡 وضاحت:
۱؎: گھوڑوں کے بدن کو چھریرا بنانے کے عمل کو تضمیر کہتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خوب کھلا پلا کر موٹا اور تندرست کیا جائے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کر دی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل خوراک پر آ جائیں، پھر ایک مکان میں بند کر کے ان پر گردنی ڈال دی جائے تا کہ انہیں گرمی اور پسینہ آ جائے جب پسینہ خشک ہو جاتا ہے تو وہ سبک، طاقتور اور تیز رو ہو جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (420) صحيح مسلم (1870)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 41 (420)، والجھاد 56 (2868)، 57 (2869)، 58 (2870) والاعتصام 16 (7336)، صحیح مسلم/الإمارة 25 (1870)، سنن النسائی/الخیل 12 (3614)، (تحفة الأشراف: 8340)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد 22 (1699)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 44 (2877)، موطا امام مالک/الجھاد 19 (45)، مسند احمد (2/5، 55، 56)، سنن الدارمی/الجھاد 36 (2473) (صحیح)